ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں ایس ڈی پی آئی کارکنان کی گرفتاری پر ریاست گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے

کرناٹک میں ایس ڈی پی آئی کارکنان کی گرفتاری پر ریاست گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے

Sat, 26 Dec 2020 00:39:25    S.O. News Service

بنگلور 25/ ڈسمبر(ایس او نیوز/پریس ریلیز)۔مرکزی بی جے پی حکومت مظلوموں کی آواز اٹھانے والی تنظیموں اور تحریکوں کے خلاف  این آئی اے کا غلط استعمال کرنے اور مرکزی حکومت کے اشاروں پر  سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کی جانب سے ریاست گیر سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

اس موقع پر احتجاجیوں نے اس بات کا بھی  الزام لگایا کہ  گزشتہ دنوں ایس ڈی پی آئی بنگلور کے ضلعی صدر محمد شریف سمیت کچھ کارکنان کی گرفتاری بھی اسی کے تحت انجام دی گئی ہے۔  ان گرفتاریوں کی سخت  مذمت کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی نے 23اور24دسمبر 2020کو ریاست کے تمام اضلاع میں  احتجاجی مظاہرہ کیا اور گرفتاریوں کی مخالفت کی۔

بنگلور میں  میسور بینک سرکل پر ہوئے احتجاجی مظاہرے سے ایس ڈی پی آئی ریاستی جنرل سکریٹری افسر کوڈلی پیٹ نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کارکنان کی گرفتاری سیاسی سازش کا ایک حصہ ہے اور این آئی اے،   بی جے پی  رہنماؤں کے اشاروں پر ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کو نشانہ بنارہی ہے جو اپنی ناکامی کو چھپانے کا ایک ناکام ایجنڈا ہے۔ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں بنگلور ڈی جے ہلی میں اہانت رسول کا جو معاملہ چلا اور آقا صلی اللہ وعلیہ سلم کی شان میں گستاخی کی گئی تھی اس پر ڈی جے ہلی میں ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس ہنگامے اور تشدد کے تعلق سے تفتیش پہلے دن سے ہی ریاستی پولیس اور این آئی اے کرتی آرہی ہے اور اب تک ہزاروں نوجوانوں سے پوچھ تاچھ ہوچکی ہے اور وہ بے قصور پائے گئے ہیں۔اس کے باوجود بی جے پی اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے ایس ڈی پی آئی کے پیچھے لگ گئی ہے۔

افسر کوڈلی پیٹ نے مزید کہا کہ جب جب بھی این آئی اے نے ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا اس وقت ہمارے کارکنوں نے این آئی اے کی تفتیش کا بھر پور تعاون کیا۔ یہاں تک کہ کارکنوں کے موبائل فون اور دفاتر کی تلاشی لی گئی مگر انہیں کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا اور ڈی جے ہلی فساد میں ایس ڈی پی آئی کا ہاتھ ہونے کا انہیں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دراصل بی جے پی کی ذہنیت رکھنے والا اور اس کی حمایت کرنے والا مجرم گستاخ نوین جس نے آقا صلی اللہ وعلیہ سلم کی شان کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کیا تھا۔ جس کے بنا پر بنگلور ڈی جے ہلی میں فساد برپا ہوا تھا۔ اس معاملے کا اصل مجرم کانگریس کا سابق کارپوریٹر سمپت راج ہے جو آج تک جیل میں بند ہے اور اس کے خلاف یو اے پی اے کالا قانون کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے جبکہ  دوسرے اصلی مجرم گستاخ نوین کے خلاف معمولی دفعات عائد کرکے  اس کو ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی اور دوہرا رویہ ہے۔

احتجاجیوں کے مطابق  بے قصور مسلم نوجوانوں کو یو اے پی اے کالے قانون کے تحت گرفتار کیا جارہا ہے جو سراسر غلط ہے۔ این آئی اے آزاد بھارت کا آزاد ادارہ ہے اسے آزاد رہنے میں ہی اس کی بقاء ہے لیکن این آئی اے اس کے برعکس کام کررہی ہے اور   موجود ہ فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والی بی جے پی حکومت کے اشاروں پر چل رہی ہے۔ احتجاجیوں نے کہا کہ  اگر این آئی اے اسی طرح کام کرتا رہا تو یہ  سیکولر ملک کیلئے اور یہاں کے انصاف پسند لوگوں کیلئے خطرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایس ڈی پی آئی این آئی اے کی یا اس کی تحقیقات کی مخالفت نہیں کررہا ہے بلکہ اس کے یک طرفہ اور ناانصافی پر مبنی جانچ کی مذمت کررہی ہے۔

افسر کوڈلی پیٹ کے مطابق کورونا کے دوران جس پارٹی نے بلا تفریق مذہب و ملت انسانیت کی خدمت کی جس کے بنا پر پورے ملک میں ایس ڈی پی آئی کی  خدمات کو سراہا گیا اور قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا،اس کو بدنام کرنے کیلئے یہ تمام حربے اختیار کئے جارہے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی جو گزشتہ دس سالوں سے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات میں سیاسی بیداری اور ترقی کیلئے کام کررہی ہے اب وہ بی جے پی کے آنکھ کا کانٹا بنی ہوئی ہے۔ ایس ڈی پی آئی تمام انصاف پسند لوگوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایس ڈی پی آئی کا ساتھ دیں اور بے قصور نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کریں۔ اس احتجاجی مظاہرے میں گرفتار کئے گئے ایس ڈی پی آئی کارکنان کے اہل خانہ سمیت ہزاروں کارکنان اور سیکولر ذہن رکھنے والے برادران وطن شریک رہے۔


Share: